نئی دہلی،30؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کشمیر پر گفتگو کے تئیں گرم ہوتی سیاست کے مدنظر کانگریس نے اپنے لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کو سیاسی بیان بازی سے منع کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی چدمبرم کے کشمیر پر بیان بازی سے کانگریس میں اندرون خانہ خفگی ہے ۔ پی چدمبرم کوکشمیرے عنوان پر بیان بازی سے منع کیا گیا ہے۔ پیر کے روز اعلی کمان کی میٹنک سے باہر آنے کے بعد صحافیوں سے کوئی گفتگونہیں کی ۔پی چدمبرم نے ایک پروگرام کے دوران جموں و کشمیر کی خود مختاری کے مطالبے کو جائز قرار دیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں علاقائی خود مختاری دینی چاہئے اور کشمیر میں علاقائی خود مختاری کے باوجود وہ ہندوستان کا حصہ ہوں گے۔ کشمیر پر چدمبرم کا بیان بھی گجرات ۔ ہماچل پردیش کے انتخابات میں بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے ہماچل پردیش میں کہا تھا کہ ہماچل پردیش کے عوام ان لوگوں کو کبھی ووٹ نہ دیں جو کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے ٹویٹ کیا ہے کہ گجرات میں بی جے پی کی کامیابی کی تصدیق پی چدمبرم کے بیان سے ہوتی ہے اور یہ واضح ہونا چاہئے کہ گجراتی قوم پرست ہیں ۔ بی جے پی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے اسے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کانگریس کی طرف سے ملک کو توڑنے کی سیاست کی بات کی ۔ اطلاعات و نشریات کی وزیر اسمرتی ایرانی نے ٹویٹ کیا کہ پی چدمبرم کا علیحدگی پسندوں اور آزادی کی حمایت کرنا حیران کن ہے ۔ اسمرتی ایرانی نے اپنے مخصوص ذہنیت کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میں حیران نہیں ہوں ؛کیونکہ ان کے رہنما بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے نعرے کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس بیان کو لے کر بی جے پی کے لیڈران نے جم کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور تنقید و تنقیص کا کوئی موقعہ فروگذاشت نہ کیا ۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان سریج والا نے تمام بھگوائی لیڈران کی بیانات کو یک لخت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اور وہ ریاست یقیناًبھارت کے ساتھ رہے گی ، تاہم ایک جمہوری ملک میں ہر ایک شخص کو اس کے خیالات کے اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی سخت لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقہ سے اقتدار حاصل کرنے والے ہی خود جمہوری اقدا ر کو کچل رہے ہیں اور ان کا یہ طریقہ ازل سے پابند کار ہے ۔